A Peshawar soldier divorces his wife



 A Peshawar soldier divorces his wife


پشاور کے ایک فوجی کرنل نے اپنے ذاتی اور فیملی مسائل اور دیگر وضوحات کی بنا پر اپنی بیوی سے جگڑا ہونے کے بعد
 اسے طلاق دے دی بعد میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ خوش نہیں تھی لہٰذا اس پشاوری کرنل نے اس کو طلاق دے دی بعد میں اس عورت کی شادی پشاور کے اسی بیرک میں کام کرنے والے

ایک دوسرے فوجی سے ہو گئی جو کہ عہدے میں پہلے فوجی سے نچلے گریڈ کا تھا شادی کے چند دنوں بعد جب یہ فوجی واپس ڈیوٹی پر آیا تو رات کے وقت بہت سے دیگر دوست فوجی کٹھے بیٹھے تھے کہ اس کرنل نے اس فوجی سے تنزیہ لیجے میں کہا کہ کیسی رہی نئی نویلی استمار شدہ دلہن

کرنل کی یہ بات سن کر یہ فوجی بیچارہ شربندہ ہو گیا اور خاموش ہو گیا کچھ دیر بعد دوبارہ پھر کرنل نے یہی الفاظ دہرائے اور کہا کہ بدقسمتی سے تجھے استعمال شدہ مشین ملی ہے چلو خیر اب بتاؤ تو صحیح دلہن کیسی ہے

ساتھ میں اس نے بہت زوردار کہکہ لگایا جب کرنل کی یہ بات اس فوجی سے برداشت نہ ہو سکی تو اس فوجی نے کرنل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نئی نویلی دلھن کی استعمال شدہ مشین تین انچ ماس کے بعد

آگے بالکل نہیں تھی ایسے لگتا ہے کہ اس مشین کو استعمال کرنے والا کوئی مرد نہیں تھا مشین کو دیکھتے ہوئے ایسا صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مشین بالکل صاف ستھری ہے ہارڈ بال والی پچ پر ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی ٹینس بال کھیلتا رہا ہے اس فوجی کے یہ الفاظ سنتے ہی یہاں بیٹھے دیگر تمام فوجی ہسنے لگے

اور کرنل یہ سنتے ہی آگ بگولہ ہو گیا اور وہاں سے چلتا بنا یقیناً اس کرنل کو یہ سوال کرنے پر ہمیشہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جتنے لوگوں نے یہ بات سنی ہیں ان سے نظریں ملاتے وقت یہ کرنل ہمیشہ شرمندگی محسوس کرے گا اور اپنی ذات میں بھی یہ سوال کرتا ہوگا کہ میں نے یہ گٹیا سوال

کیوں اس فوجی سے کیا جبکہ وہ عورت اس کی عزت بن چکی ہے اور اس کی حفاظت کرنا اب اس فوجی کی ذمہ داری ہے زندگی میں کبھی بھی کسی کی ذاتیات اور عزت پر داغ لگانے کی کوشش نہ کریں کیا پتہ جو آپ کسی کی ذات پر داغ لگانا چاہتے ہیں
اس کے بدلے میں آپ کو ساری زندگی کے لیے ایک ایسے دبے سے نوازا جائے جو کہ زندگی میں آپ کی شناخت اور شرمندگی کا باعث بن جائے

Post a Comment

Previous Post Next Post